ونیورسٹی آف چترال نے ان لائن کلاسز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،مگر 90فیصد اسٹوڈنٹس کا تعلق اپر چترال سے ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت سے لوگ ناآشنا ہیں /اسلامی جمعیت طلبہ چترال کاپریس کانفرنس

Published On: 2020-06-16 03:01:12, By: Asif

چترال (نمائندہ چترال) اسلامی جمعیت طلبہ چترال کے ضلعی ناظم اقبال الدین نے کالج اور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کے لئے ان لائن کلاسز شروع کرنے سے پہلے انٹرنیٹ کی connectivityکے مسئلے کو حل کرنے، یونیورسٹی آف چترال کے طلباء وطالبات کو ایس او پیز کے ساتھ ہوسٹلوں میں رہائش رکھنے کی اجازت دینے اور کروناوائرس کی ایمرجنسی کی بنیاد پر یونیورسٹی کی ٹیوشن فیس معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر یہ مطالبات منظور نہ ہوئے تو اپر اور لویر چترال میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ پیر کے روز جمعیت کے دیگر رہنماؤں عزیر بشیر، دانیال اسلم، احسان جلیل، کاشف حسین، ذیشان الیاس، یاور جلال اور دوسروں کی معیت میں چترال پریس کلب میں ایک پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ ایک طرف یونیورسٹی آف چترال نے اپنے اسٹوڈنٹس کے لئے ان لائن کلاسز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف لویر چترال میں انٹرنیٹ کی خراب کنکشن اور اپر چترال میں اس سہولت کی عدم دستیابی اور نادار اسٹوڈنٹس کے پاس انڈرائڈ فون اور لیپ ٹاپ نہ ہونے کے مسئلہ بھی درپیش ہے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف چترال میں 90فیصد اسٹوڈنٹس کا تعلق اپر چترال سے ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت سے لوگ ناآشنا ہیں اور چترال سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ ہزار طلباء وطالبات وہ بھی ہیں ڈاون کنٹری میں مختلف کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور اداروں کی بندش کی وجہ سے گھروں میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے اداروں کی ان لائن کلاسوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں اور ان کی تعلیم کا ضیاع بھی جاری ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایس اوپیز پر عملدرامد کو شرط بناتے ہوئے اسٹوڈنٹس کو چترال ٹاؤن میں واقع مختلف ہاسٹلوں میں رہائش رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ یہاں انٹرنیٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاکر ان لائن کلاسز اٹینڈ کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مرغی فروش کو مرغی بیچنے کی اجازت دی جارہی ہے تو معاشرے کا ذمہ دار اور حساس طبقہ طلبہ برادری پر اعتماد کیوں نہیں کیا جارہا ہے جوکہ کروناوائرس کے خلاف تدابیر پر اب بھی سختی سے عمل کررہے ہیں اور پبلک مقامات پر فیس ماسک استعمال کرنے والے سوفیصد لوگ یہی طالب علم ہیں۔ انہوں نے حکومت کو متبادل مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ جب تک انٹر نیٹ کا مسئلہ برقرار ہے تو ان لائن کلاسوں کی ویڈیو ریکارڈ یو ایس بی کے ذریعے اسٹوڈنٹس تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ اس سے سوفیصد استفادہ ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ بندش کے دنوں کے لئے کورس اوٹ لائن بھی اسٹوڈنٹس کو فراہم کئے جائیں تاکہ وہ گھروں میں اس کا اہتمام کرسکیں۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں یونیورسٹی آف چترال کے لئے ایک ارب 74کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا لیکن مجموعی طور پر اعلیٰ تعلیم کے لئے بہت ہی معمولی فنڈ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کویاد دلایاکہ اقتدار میں آنے سے فزیکل انفراسٹرکچر کی بجائے ہیومن ڈیویلپمنٹ کو ترقی کا زینہ قرار دیاجارہا تھا لیکن اب اس میں بھی 180درجے کا ٹرن لیا گیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف چترال کے پراجیکٹ ڈائرکٹر کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چار سالوں کے دوران یونیورسٹی کی تعمیر میں ایک اینٹ کا اضافہ بھی نہ کرسکے اور نہ ہی اس کے لئے صوبائی اور مرکزی حکومتوں سے فنڈز لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پراجیکٹ ڈائرکٹر ان کاموں میں پیش پیش ہیں جوکہ ان کہ ذمہ داریوں میں ہی نہیں آتے لیکن یونیورسٹی کو آگے لے جانے میں بری طرح ناکام ہوگئے

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]