لداخ کے معاملے پر ہونے والی کشید گی کی تمام ذمہ داری بھارت پر عائد ہو تی ہے: چین

Published On: 2020-06-25 00:20:32, By: Asif

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی وزارت دفاع کے ترجمان وو چیانگ نے کہا ہے کہ لداخ کے معاملے پر ہونے والی کشیدگی کی تمام ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے، ہماری افواج نے موثر انداز سے چین کی قومی سالمیت کا دفاع کیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہاکہ 16 جون 2020ء کو سرحد پر جھڑپیں بھارت کی وجہ سے ہوئیں، بھارت نے سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور چینی افواج کو اکسایا۔ بھارت نے گلوان وادی میں داخل نہ ہونے کا معاہدہ کیا تھا۔ 15 جون کو بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف ایکچوئل کنٹرول عبور کی۔ پر خطر صورتحال میں بھارتی افواج نے اچانک سے چینی فوج پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد دونوں فورسزکے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے بھارت کی جارح افواج کو بھرپور جواب دیا۔ واقعہ چین کی سرحدی حدود میں پیش آیا جسے دونوں جانب نے تسلیم کیا۔ اس سے قبل گلوبل ٹائمز کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان کرنل ژہان شوئی نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے اپنا وعدہ توڑتے ہوئے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر اشتعال انگیز حملوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور بھارت کو جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ وادی گلوان کے معاملے پر چین ہمیشہ خود مختاری کو ترجیح دیتا ہے، بھارتی فوجیوں نے سرحدی حدود کے معاملے پر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر اشتعال انگیزی والے الفاظ استعمال کیے جس کے باعث تناؤ میں اضافہ ہوا اور اس دوران جھڑپیں ہوئیں۔پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان نے کہا کہ فوجی سطح کے مذاکرات کے دوران جس چیز پر اتفاق پایا گیا تھا اس کی بھارتی فوج نے خلاف ورزی کی، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے جذبات کو نقصان پہنچا۔کرنل ژہان شوئی نے کہا کہ بھارت اشتعال انگیز ی روک کر سرحد پر چینی فوج سے ملاقات کرے اور سیدھے راستے پر آئے اور بات کرے تاکہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]