ملک مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا، ابھی اور چیلنجز آنے ہیں، کورونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، ایس او پیز پر عمل کر کے اس سے بچا جا سکتاہے: عمران خان

Published On: 2020-06-06 01:18:03, By: Asif

اسلام آباد (، مانیٹرنگ ڈیسک، ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم کورونا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، ایس او پیز پر عمل کرکے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا ٹائیگر فورس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم نے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے رضاکاروں سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تک ہم 10 لاکھ کورونا ٹائیگرز رجسٹرڈ کر چکے ہیں جو اس وبا بارے لوگوں میں شعور پیدا کرینگے۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس رکنے والا نہیں، اس نے پھیلنا ہی ہے۔ عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو بڑا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ہو سکتا ہے آئندہ دنوں میں کورونا کے ہاٹ سپاٹس کو بند کرنا پڑے۔ اگر اب بھی لوگ ایس او پیز پر عمل کریں تو ہم مشکل وقت سے نہیں گزریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے غریب ملکوں میں عائد کیے گئے لاک ڈاؤن نے تباہی مچا دی ہے تو دوسری جانب امیر ترین ملکوں میں کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا جیسے امیر ترین ملک میں بھی کھانے کی شدید کمی دیکھنے میں آئی۔ وہاں کے عوام کو لائنوں میں لگ کر کھانالینا پڑ رہا ہے۔ ہندوستان میں سخت لاک ڈاؤن کیا گیا تو غربت بڑھی۔ ٹرانسپورٹ بند ہونے سے وہاں لوگ سڑکوں پر مرے۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا تھا کہ لاک ڈاؤن ہونے سے غربت میں اضافہ ہوگا۔ یہ پابندی لوگوں پر مشکل ہے، اس کی وجہ سے عوام پر زیادہ بوجھ پڑا۔ اب دنیا سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے رمضان المبارک میں ایس او پیز کے تحت مساجد کھلی رکھیں، کورونا وائرس مساجد سے نہیں پھیلا۔ اللہ کا کرم ہے کہ آج 3 مہینے میں صرف ساڑھے 17 سو اموات ہوئیں۔وزیراعظم نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ریونیو میں 800 ارب روپے کم ہو گئے ہیں۔ پہلے سال جو ٹیکس جمع کیا، اس کا آدھا قرضوں کے سود کی ادائیگی میں دیا۔ اگر ریلیف پیکج کا اعلان نہ کرتے تو ملک کے حالات خراب ہو جاتے انہوں نے بتایا کہ جو قرضے پچھلی حکومت نے لیے، اس پر 5 ہزار ارب سود ادا کر چکے ہیں، ابھی آگے آگے مزید چیلنجز آنے ہیں۔ ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا۔ بجٹ میں ہمیں بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ بند علاقوں میں کھانا پہنچانے کیلئے ٹائیگر فورس کی ضرورت پڑے گی۔ یہ فورس ٹڈی دل کی زد میں آنے والے علاقوں میں بھی مدد کرے گی۔دوسری طرف معیشت اور بجٹ کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وباکی وجہ سے ہر طبقہ متاثر ہوا، معیشت کو استحکام دینے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا خصوصاً غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی موجودہ حکومت کی روز اول سے ترجیح رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس مقصد کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بجٹ برائے مالی سال 21-2020 کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں مشیر خزانہ کی قیادت میں حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کے محصولات، اخراجات اور اس حوالے سے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباکی وجہ سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے اور معیشت کو استحکام دینے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ان شعبوں کو خصوصی طور پر فروغ دیا جائے جن سے نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معاشی عمل کو فروغ ملتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا خصوصاً غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی موجودہ حکومت کی روز اول سے ترجیح رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس مقصد کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مختلف شعبوں میں سبسڈیز اور حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی کے معاملات پر غور کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی درحقیقت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیسے کے بہترین اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ جہاں مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے وہاں حقداروں تک ان کے حق کو پہنچانے کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اصلاحات کے عمل کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ عوام پر پڑنے والے غیرضروری بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے اور ان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]