امریکہ میں شدید احتجاج جاری، ٹرمپ کا واشنگٹن میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

Published On: 2020-06-03 00:46:55, By: Asif

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں بڑی تعداد میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں بے امنی انتہائی ذلت آمیز ہے، لاقانونیت اور تشدد کے خاتمے کے لیے فوج کو متحرک کیا جائے گا، بطور صدر میری پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری امریکا اور اس کے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ کو روکنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کر رہا ہوں، ذمیداروں کو بھاری جرمانے اور طویل وقت کے لئے قید کی سزائیں دلائیں گے۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کیس میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔دوسری جانب نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی شہریوں کے خلاف امریکی فوج کو طلب کیا ہے تاکہ وہ چرچ کے باہر تصاویر بنوا سکیں، یہ صدر کے لیے محض ایک ریئلیٹی ٹی وی شو ہے۔ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں گزشتہ دنوں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں گزشتہ ہفتے سے ہنگامے اور فسادات جاری ہیں۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث چاروں اہلکاروں کو سزا دی جائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں مظاہروں کو روکنے کے لیے فوج تعینات کرنے کے اعلان پر امریکی ریاست نیویارک کے گورنر انڈریو کومو اور گورنر الینوئس جے رابرٹ پریٹزگر نے انہیں ہدفِ تنقید بنایا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے کہا کہ فلائیڈ کے ہلاکت امریکی تاریخ کا شرمناک باب ہے، پرامن مظاہرین کے خلاف فوج کی تعیناتی مضحکہ خیز ہے۔جاری کیے گئے ایک بیان میں گورنر نیویارک انڈریو کومو نے کہا کہ ہمیں پولیس کے تشدد اور ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بہت ہوگیا، اور کتنے لوگوں کو ماریں گے؟ انتہا پسند گروپ دائیں بازو میں ہیں اور بائیں بازو میں بھی، یہ سب جانتے ہیں۔گورنر نیویارک کا یہ بھی کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ہے، مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال شرمناک ہے۔امریکی ریاست الینوئس کے گورنر جے رابرٹ پریٹزگر کا کہنا تھا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیان بازی اشتعال انگیز ی ہے گورنر جے رابرٹ پریٹزگر کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کی اشتعال انگیز بیان بازی پر شدید تشویش ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاوس سے ہونے والی بیان بازی حالات کو مزید مشکل بنا رہی ہے، ہمیں ایسی قومی قیادت کی ضرورت ہے جو تحمل و برداشت کی اپیل کرے۔اقوام متحدہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے سلسلے میں صبر و تحمل سے کام لے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکہ سے کہا کہ وہ مظاہرین کے مقابلے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔گزشتہ ایک ہفتے سے امریکہ کے پچاس سے زائد شہروں میں نسل پرستی، عدم مساوات اور پولیس کے ظلم و تشدد کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کا دائرہ اس وقت امریکہ سے باہر نکل کر برطانیہ، ڈنمارک اور کینیڈا سمیت مختلف یورپی اور مغربی ممالک تک جا پہنچا ہے۔دریں اثنا امریکا میں سیاہ فام شہری کی موت کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل قرار دے دیا گیا۔ مقتول کو حراست اور تشدد کے دوران دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے نے بتایاکہ سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جارج فلائیڈ کو دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔ جبکہ رپورٹ میں گردن سختی سے دبانے کی تصدیق بھی ہوگئی ہے۔مقتول کو پہلے سے دل کی بیماری تھی۔قبل ازیں جارج فلائیڈ کے اہل خانہ کی جانب سے کرائے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں بھی موت کی وجہ گردن اور کمر کو دبانا قرار دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکا کے کئی شہروں میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]