پنجاب، دوہفتے سخت لاک ڈاؤن ضرور ی، عالمی ادارہ صحت، کورونا کے کیس بہت زیادہ بڑھے تو لاک ڈاؤن کرنا پڑیگا ڈبلیو ایچ او کا خط کابینہ میں پیش کریں گے، وزیر صحت ملک بھر میں مزید 18مریض جان کی بازی ہار گئے

Published On: 2020-06-10 00:34:20, By: Asif

نیو یارک، لاہور (، مانیٹرنگ ڈیسک،) ڈبلیو ایچ او نے کورونا کے بڑھتے مریضوں اور اموات پر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ کورونا کی وبا پاکستان کے تمام اضلاع میں پہنچ چکی ہے، لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پنجاب میں کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات پر کہا ہے کہ صوبے میں روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ اور کم ازکم 2 ہفتے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔ خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا کے حوالے سے ضابطہ کار (ایس او پیز) پر سختی سے عمل نہیں ہو رہا۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ ہونے چاہئیں اور کم از کم 2 ہفتے کا مکمل لاک ڈاؤن وقت کی ضرورت ہے۔عالمیادارے کا کہنا ہے پاکستان میں کورونامریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھنا خطرے کی بات ہے،لاک ڈاؤن کے دوران ہی روزانہ ایک ہزار کیسز رپورٹ ہورہے تھے،لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد روازنہ مریضوں کی تعداد 4 ہزار سے اوپر ہوگئی ہے۔، پاکستان کے بڑے شہروں میں کورونا وبا کے کیسز بڑی تعداد میں ہیں، ڈبلیو ایچ او تجویز کرتا ہے کہ پاکستان تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے، پاکستان قرنطینہ، آئسولیشن، سماجی فاصلے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے اقدامات اٹھائے۔خط کے متن میں کہا گیا کہ پاکستان کیلئے یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ کی اہلیت اختیار کرنا بے حد ضروری ہے، لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے حکومتوں کا 6 شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے، لاک ڈان کے خاتمے سے قبل حکومت یقینی بنائے کہ ملک میں وبا مکمل کنٹرول میں ہے، ہیلتھ سسٹم ہر کیس کی تشخیص، ٹیسٹ، آئیسولیشن، علاج اور ٹریس کرنے کا اہل ہو، حکومت یقینی بنائے کہ ہاٹ سپاٹ رسکس کم سے کم ہوں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اسوقت لاک ڈاؤن کے خاتمے کی کسی معیار پر بھی پورا نہیں اترتا، پاکستان کورونا سے متاثر 10 سرفہرست ممالک میں شامل ہے، دوسری طرف ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر پاکستان کو ایشیا اور بحرالکاہل کا چوتھا خطرناک ملک قرار دے دیا۔ ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے ممالک کی درجہ بندی کی تیاری میں وبا سے نمٹنے کے لیے طبی وسائل کے استعمال، قرنطینہ کی سہولیات، وائرس کی تشخیص کی صلاحیت اور معاشی نقصانات کی رفتار کو معیار بنایا ہے۔دنیا کی جنت کہلایا جانے والاسوئٹزرلینڈ کورونا سے کم نقصان اٹھانے والے ممالک میں سرفہرست ہے جب کہ دوسرے نمبر جرمنی اور تیسرے نمبر پر اسرائیل ہے۔فہرست میں چین کا ساتواں، نیوزی لینڈ کا 9، جنوبی کوریا 10، سعودی عرب 17، ترکی 37، بھارت 56، امریکا 58، برطانیہ 68 اور بنگلادیش کا 84 واں نمبر ہے۔ 200 خطوں اور ممالک کی اس رپورٹ میں پاکستان کا نمبر 148 ہے۔ رپورٹ میں خطوں کے حساب سے ملکوں کاسیفٹی اسکور جاری کیا گیا ہے۔ایشیا اینڈپیسیفک ریجن میں سب سے زیادہ سفیٹی اسکور سنگاپور کا ہے، پاکستان کا سیفٹی اسکور 370، پڑوسی ملک بھارت کا اسکور 535 اور بنگلادیش کا 482 بتایا گیا ہے تاہم خطے کا سب سے کم سیفٹی اسکور افغانستان کا 310 ہے۔250صفحات پر مبنی اسٹڈی رپورٹ میں جنوبی سوڈان کو کورونا وائرس سے روک تھام کے اقدامامت میں ناکامی پر دنیا کاخطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔عالمی ادارہِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم نے کہاہے کہ اگرچہ یورپ میں نوول کروناوائرس کی صورتحال بہتر ہورہی ہے لیکن عالمی سطح پر حالات بدتر ہورہے ہیں۔ٹیڈروس کے مطابق گزشتہ 10روز میں سے 9روز میں ڈبلیو ایچ او کو 1لاکھ سے زائد کیسز کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ 7جون کو 1لاکھ 36ہزار سے زائد کیسز کی اطلاعات موصول ہوئیں جو کہ ابتک ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔ٹیڈروس نے کہاکہ ڈبلیو ایچ او کو اب تک نوول کروناوائرس کے تقریبا70لاکھ کیسز اورتقریبا 4لاکھ ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔افریقہ کے حالات کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہاکہ وہاں پر بیشتر ممالک میں تاحال نوول کروناوائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، کچھ نئے جغرافیائی علاقوں میں بھی کیسز سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم مشرقی یورپ اور وسط ایشیا کے علاقوں میں کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]