کورونا وائرس سے مزید 88اموات، ماسک نہ پہننے پر جرمانہ، سزا، ملک بھرمیں ہسپتالوں کا ڈیٹا یکجا کرنے کے لئے ریسور س مینجمنٹ سسٹم متعارف، تعلیمی ادارے ستمبر تک بند رکھنے، شادل ہال کھولنے کی سفارشات

Published On: 2020-06-01 00:51:56, By: Asif

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد اور دو صوبوں میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ماسک نہ پہننے والوں جرمانی اور قید کی سزا ہو گی۔پنجاب حکومت نے صوبے میں سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کردئیے، عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے پر 500 روپے جرمانہ ہوگا۔نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹی فکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے پر 500 روپے جرمانہ ہوگا، گھر میں قرنطینہ کی خلاف ورزی پر 2 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، عوامی مقامات پر تھوکنے پر 500 روپے جرمانہ ہوگا۔اسی طرح کسی دکان میں سماجی فاصلے کی خلاف ورزی پر مالک دکان کو 2 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، گاڑیوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مالک کو جرمانہ ہوگا۔بس میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 3 ہزار جرمانہ ہوگا، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کار مالک کو 2 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، رکشے اور موٹر سائیکل سوار کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 500 روپے جرمانہ ہوگا۔ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانوں کا نوٹی فکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔خیبر پختونخوا حکومت نے بھی عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازم قرار دے دیا، خلاف ورزی پر سخت سزا ملے گی۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں۔سلام آباد میں تمام عوامی جگہوں پر ماسک پہننا اور منہ ڈھانپنا لازمی قرار دے دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت میں مارکیٹس،عوامی مقامات، مساجد،پبلک ٹرانسپورٹ،لاری اڈہ،گلیوں،سڑکوں، دفاتر میں چیکنگ ہوگی۔ مجسٹریٹ تین ہزار روپے تک جرمانے کریں گے اور دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت جیل بھی بھیجا جا سکتاہے۔ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات نے کورونا وائرس سے بچنے کیلئے شہریوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کوئی بھی ماسک نہیں پہنے گا اس کیخلاف ضابطہ فوج داری کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کارروائی کریں گے اور جرمانہ بھی کیاجائے گا۔انتظامیہ نے ماسک پہننے کے لیے ہدایات بھی جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب ماسک پہنیں تو اسے ہاتھ مت لگائیں اور اگر ماسک کو ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ فورا دھوئیں دوسری طرف وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ دکاندار‘’نو ماسک نو سروس”پالیسی پر عمل کریں، اگر کوئی ماسک نہیں پہنتا تو اسے کوئی چیز فروخت نہ کی جائے۔وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس ہوا جس میں داخلہ، فوڈ سیکیورٹی اور معاشی امور کے وزرا جبکہ معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈاکٹر معید یوسف بھی موجود تھے۔اجلاس میں قومی رابطہ کمیٹی کے آج کو ہونے والے اجلاس کے لیے تجاویز اور سفارشات مرتب کی گئیں۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ تاجر تنظمیں کاروبار کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور‘’نو ماسک نو سروس”کی پالیسی پر عمل کیا جائے، یعنی جو گاہک ماسک نہ پہنے اسے اشیا فروخت نہ کی جائیں۔اجلاس میں بیڈز اور دیگر سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ملک بھر میں ریسورس مینجمنٹ سسٹم کا اطلاق بھی پیر سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزارت صحت میڈیکل کے فائنل ائیر طلبہ، ینگ ڈاکٹروں اور ہاؤس جاب ڈاکٹرز کو متحرک کر رہی ہے۔ اجلاس میں صوبوں میں کمیونٹی موبلائزیشن اور 15 جون تک کال سینٹرز کے قیام پر زور دیا گیا۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وبا پھوٹنے کے بعد بند کیے گئے مزید معاشی شعبے کھولنے کی تجاویز کو حتمی شکل دینے کیلئے صوبوں سے رائے طلب کرلی۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں طویل المعیاد اور مختصر مدت کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔این سی او سی نے تجویز دی کہ تعلیمی ادارے اگست کے اختتام تک بدستور بند رکھنے جائیں جبکہ شادی ہالز کو مہمانوں کی محدود تعداد، ون ڈش اورایس او پیز پر عملدرا?مد کے ساتھ کھولنے کی اجازت دینی چاہیے۔اجلاس میں کوروناکے حوالے سے عوام میں آگاہی دینے کے لیے بہتر پیغامات اور رابطوں کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر بھی زور دیا گیا۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ایس او پیز کو نافذ کرنے کے لئے مارکیٹ ایسوسی ایشنزکی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسد عمر نے ہدایت کی کہ لاک ڈاون میں نرمی کے منصوبے پر توجہ دیتے ہوئے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے،فورم نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت سزا دیئے جانے کی تجویز پیش کی۔ اسد عمر نے کہاکہ کورونا پر قابو پانے کے لئے بھرپور عوامی مہم چلائی جائے، اس مہم میں لوگوں کے طرز عمل میں تبدیلی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی جائے کہ حکومت کا بنیادی مقصد لوگوں کو وبائی امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ متاثرہ افراد کی معلومات کے لئے بستروں اور دیگر متعلقہ سہولیات کی دستیابی کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کی جائیں حکومت نے ملک بھر کے تمام ہسپتالوں کے ڈیٹا کو ایک جگہ جمع کرنے اور افواہوں کے سدباب کے لیے ایک نیا ریسورس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا جس کی بدولت تمام ہسپتالوں اور وینٹی لیٹرز کی معلومات ایک جگہ میسر آسکیں گی۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹوں میں 15ہزار ٹیسٹ کیے گئے جس میں 3 ہزار 39 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ 42 ہزار 742 کیسز میں سے ہسپتالوں میں 4 ہزار 480 مریض داخل ہیں، جن میں سے 723 کی بیماری کی نوعیت کافی شدید ہے اور ان میں سے 201 وینٹی لیٹرز پر ہیں اور بقیہ مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 88 اموات رپورٹ ہوئیں جو پاکستان میں ایک دن میں ہونے والی اموات کی اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔ان کہنا تھا کہ یہاں مختلف خبریں زیر گردش کرتی ہیں کہ پاکستان کا نظام صحت انتہائی پہنچ چکا ہے، آئی سی یو بیڈز ختم ہو چکے ہیں، پاکستان میں وینٹی لیٹرز ختم ہو گئے ہیں لیکن ایسی قطعاً کوئی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کووڈ-19 کے لیے مختص کیے گئے وینٹی لیٹرز میں سے صرف 28فیصد اس وقت زیر استعمال ہیں اور اس کے علاوہ وینٹی لیٹرز فارغ پڑے ہیں لیکن بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں اکثر دباؤ پڑ جاتا ہے جس سے یہ تشویش شروع ہو جاتی ہے پاکستان میں کوئی بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے ریسورس مینجمنٹ سسٹم وضع کیا ہے جس کا مقصد جو بلاوجہ تشویش شروع ہوجاتی ہے اس کا حل نکالا جائے اور یہ سسٹم پاکستان کے تمام ہسپتالوں کے بارے میں بنیادی معلومات جیسے کہ کتنے بستر ہیں، کتنے وینٹی لیٹرز ہیں ان سب کے بارے میں ریئل ٹائم میں معلومات مل سکے گی۔اس موقع پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شباہت علی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ریسورس مینجمنٹ سسٹم کا مقصد ایک ایسا نظام تیار کرنا تھا کہ جس کی بدولت تمام صوبوں اور ان کے ہسپتالوں میں بستروں، وینٹی لیٹرز سمیت تمام معلومات ایک جگہ میسر آ سکیں اور اس کا صوبوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صوبے ایک ہی جگہ اپنے تمام تر وسائل کو دیکھ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے آغاز کیا تھا تو ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے ہسپتالوں کا بہت سارا ڈیٹا مل گیا تھا جو نامکمل تھا تو ہم نے سب سے پہلے جو ہر صوبے میں جتنے بھی ہسپتال ہیں ان کی فہرست بنائی اور ان کے مالکان کو ایک لاگ ان آئی ڈی دے کر سینٹرالائزڈ ڈیٹا بیس سسٹم تک ان کو رسائی دی جس کے بعد انہوں نے ہسپتالوں کے ڈیٹا کا خود اندراج شروع کیا لیکن یہ قلیل مدتی حل تھا۔شباہت علی کا کہنا تھا کہ طویل المدتی حل یہ تھا کہ صوبوں میں تمام انفرادی سسٹم ان کے ساتھ سینٹرالائزڈ ڈیٹا بیس کو لنک کریں اور جیسے جیسے صوبوں کے ہسپتالوں کے سسٹم اپ ڈیٹ ہوتے ہیں، ویسے ہی ہمارا سینٹرالائزڈ سسٹم اس کے ساتھ اپ ڈیٹ ہو۔انہوں نے کہا کہ جب ہمیں تمام جگہ سے ڈیٹا موصول ہوا تو ہم نے اسے میپ پر بنایا جس کی بدولت آپ یہ پتہ لگا سکیں گے کہ ایک رداس میں کتنے ہسپتال ہیں اور ان میں کتنے بستر، کتنے وینٹی لیٹرز سمیت کتنی سہولیات میسر ہیں اور ہم نے 4 سے 6 ماہ میں مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ڈیٹا کا استعمال یقینی بنانے کے لیے نیشنل ایمرجنسی رسپانس کے نام سے ایک موبائل ایپ بنائی ہے اور اسے نجی اور سرکاری اداروں میں وہ تمام افراد استعمال کر سکیں گے جو ایمرجنسی رسپانس کی فراہمی جیسے ایدھی وغیرہ سے منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کی بدولت کوئی بھی کورونا کا مریض ملتا ہے تو وہ اس کی بدولت پتہ چلا سکتے ہیں کہ قریب ترین بستر اور وینٹی لیٹر کہاں دستیاب ہے۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس(آج) پیر یکم جون کو سہ پہر ساڑھے چار بجے ہوگا، اجلاس میں کورونا کی وبائی صورتحال اور مرض سے بچاؤ کی حکمت عملی پربات ہوگی۔، اجلاس میں وفاقی وزراء ، این ڈی ایم اے، وزارت صحت کے حکام، چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں کورونا کی وبائی صورتحال اور مرض سے بچاؤ کی حکمت عملی پربات ہوگی۔اجلاس میں کورونا کے مریضوں کے علاج معالجہ اور طبی سازوسامان کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی یا نرمی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے، جبکہ وزیراعظم بھی لاک ڈاؤن کے حوالے سے اپنی رائے دیں گے۔دوسری طرف ماسک لازمی

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]