دوبارہ لاک ڈاؤن کی وارننگ، احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو بہت بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے، ظفر مرزا، سفری آزادیاں نقصان پہنچا رہی ہیں، سندھ حکومت،سختی کرنا پرے گی: اجمل وزیر

Published On: 2020-05-27 08:35:04, By: Asif

اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے عید سے قبل کاروبار کھولنے کی اجازت دی اور اب عید کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستانی شاید سمجھ رہے ہیں کہ کورونا صرف عید تک تھا، اگر ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو بہت بڑا بحران پیداہوسکتا ہے۔میڈیا سے گفتگو میں معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے مزید کہا کہ پاکستان سے کورونا کب ختم ہوگا، کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں 56 ہزار349 کورونا کے کنفرم کیسز ہیں، اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیاتو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑسکتا ہے۔ظفر مرزا نے کہا کہ بازاروں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہیں، ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت اس طرح نہیں بڑھا سکے جس طرح چاہتے تھے، عوام سے کہتا ہوں بیماری کو روکنے کا سبب بنیں، پھیلانے کا نہیں، عید پر مشاہدہ رہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر نے کہا ہے کہ عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے سے کرونا کیسز کی تعداد بڑھ جائے گی اور لاک ڈاؤن میں سختی کرنا پڑے گی جمل وزیر نے کرونا وائرس اور عید سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زندگی رہی تو کرونا کے خاتمے کے ساتھ اگلی عیدیں جوش و خروش سے منائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی محمود خان کی قیاد ت میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ جاری ہے، کے پی کے حکومت نے جو فیصلے کیے وہ عوام کے تحفظ کیلئے کیے اور لاک ڈاؤن میں نرمی غربت، افلاس اور معیشت کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کرلیپ ٹاپ چلانیوالے کہیں نظرنہیں آرہے، جو لوگ آستینیں چڑھا کر سڑکوں پر گھومتے تھے وہ کہیں نظر نہیں آرہے لیکن ہم وزیر اعلی کے پی محمود خان کی قیادت میں فرنٹ لائن پر ہیں۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا کہ چیف سیکریٹری کے پی ڈاکٹر کاظم نیاز کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد کاظم نیاز نے خود کو آئیسولیٹ کرلیا ہے، دعا ہے کہ کاظم نیاز ان کے بیٹے سمیت تمام لوگ صحتیاب ہوں۔ا۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے نرمی اس لئے نہیں کی کہ کرونا ختم ہوگیا ہے، کرفیو کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، عوام نے ایس او پی پر عمل نہیں کیا تو کرونا کیسز کی تعداد بڑھ جائے گی، عوام ایس او پی پر عمل نہیں کریں گے تو لاک ڈاؤن میں سختی کرنا پڑے گی۔ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین نے بھی کہا ہے کہ سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھنے کی صورت میں دوبارہ سخت لاک ڈاؤن لگا سکتے ہیں۔اپنے ایک بیان میں وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی کاوشوں کو ریل اور جہاز کی سفری آزادیاں نقصان پہنچا رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں انسانیت کی بقا میں مصروف مسیحا ہمارا فخر ہیں۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہسپتالوں میں بیڈز اور دیگر سہولیات بھی بڑھا رہے ہیں۔ عوام کسی بھی طرح کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ صرف مخصوص اوقات میں ایس او پیز کے تحت کاروبار جاری رہنا چاہیے۔،چیئر مین این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ اگر حالات خراب رہے تو جون کے آخر تک ہمیں 2 ہزار وینٹی لیٹر چاہیئے ہوں گے۔ میڈیا سے بات کرتے ۔

Re-Designed & Developed By: City Software House Chitral [0345-5742494]